صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
79. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر ثان يصرح بأن الوضوء من مس الفرج إنما هو وضوء الصلاة وإن كانت العرب تسمي غسل اليدين وضوءا
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ فرج کو چھونے سے وضو وہ ہے جو نماز کے لیے ہے، حالانکہ عرب ہاتھ دھونے کو بھی وضو کہتے ہیں
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُرَيْشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" .
سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے اسے چاہئے کہ نماز کے وضو والا وضو کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1113»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
الرواة الحديث:
مروان بن الحكم القرشي ← بسرة بنت صفوان الأسدية