علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
81. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن الأخبار التي ذكرناها مجملة بأن الوضوء إنما يجب من مس الذكر
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہمارے ذکر کردہ اخبار مجمل ہیں کہ وضو صرف ذکر کو چھونے سے واجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1118
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدَّلُ ، بِالْفُسْطَاطِ، وَعِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَنَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ القارئ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سِتْرٌ وَلا حِجَابٌ، فَلْيَتَوَضَّأْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: احْتِجَاجُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ بِنَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ دُونَ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ لأَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ تَبَرَّأْنَا مِنْ عُهْدَتِهِ فِي كِتَابِ الضُّعَفَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کی طرف بڑھائے اور ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ نہ ہو، تو اس شخص کو وضو کرنا چاہئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں ہمارا استدلال نافع بن ابونعیم کی نقل کردہ روایت سے ہے یزید بن عبدالملک کی نقل کردہ روایت سے نہیں ہے، کیونکہ یزید بن عبدالملک کے مستند ہونے سے ہم بری الذمہ ہیں۔ جیسا کہ یہ بات کتاب الضعفاء میں بیان کی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1118، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 480، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 636، والدارقطني فى (سننه) برقم: 532، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8520، والطبراني فى (الصغير) برقم: 110» «رقم طبعة با وزير 1115»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الموارد» (210)، «الصحيحة» (1235).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
سنده حسن، يزيد بن عبد الملك النوفلي، ضعيف، لم يحتج به المؤلف، وذكره في كتابه «الضعفاء»، كما قال هنا، وذكره ابن عدي في «الكامل في الضعفاء» 7/ 2715، وساق له هذا الحديث، لكن أخرج المؤلف حديثه لأنه تابعه عليه نافع بن أبي نعيم القارئ، وهو صدوق، وبه احتج المؤلف كما قال.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1118 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي