صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
92. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن الوضوء من أكل لحوم الجزور غير واجب
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ اونٹ کے گوشت کے کھانے سے وضو واجب نہیں
حدیث نمبر: 1130
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ:" أَيْنَ شَاتُكُمُ الْوَالِدُ؟ فَأَمَرَنِي بِهَا، فَاعْتَقَلْتُهَا فَحَلَبْتُ لَهُ، ثُمَّ صَنَعَ لَنَا طَعَامًا فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ" ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ،" فَوَضَعْتُ جَفْنَةً فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّيْنَا قَبْلَ أَنْ نَتَوَضَّأَ" . قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ مِثْلَهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا اور ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی بچے ہوئے کھانے کو منگوا کر اسے کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی اور ازسرنو وضو نہیں کیا۔ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کوئی چیز ہے؟“ تو انہیں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہاری وہ بکری کہاں ہے، جو بچہ دینے والی تھی؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں مجھے حکم دیا، میں نے اسے کھول لیا اور اس کا دودھ دوہ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کروایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے سے پہلے ہی نماز ادا کر لی۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ایک پیالہ رکھا جس میں روٹی اور گوشت موجود تھا، ہم نے اسے کھا لیا، پھر ہم نے ازسرنو وضو کیے بغیر نماز ادا کی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1130]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5457، ومالك فى (الموطأ) برقم:، وابن الجارود فى "المنتقى"، 26، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 43، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1130، 1132، 1134، 1135، 1136، 1137، 1138، 1139، 1145، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4686، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 185، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 188، وأبو داود فى (سننه) برقم: 191، 192، والترمذي فى (جامعه) برقم: 80، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 489، 3282، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14483» «رقم طبعة با وزير 1127»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (186).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1130 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري