صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
223. باب الماء المستعمل - ذكر الخبر الدال على أن الماء المستعمل المؤدى به الفرض مرة طاهر جائز أن يؤدى به الفرض أخرى
استعمال شدہ پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ استعمال شدہ پانی جس سے فرض ادا کیا گیا، طاہر ہے اور اس سے دوبارہ فرض ادا کیا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 1266
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الِمَنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ لا أَعْقِلُ، فَتَوَضَّأَ، وَصَبَّ مِنْ وَضُوئِهِ عَلَيَّ، فَعَقَلْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ؟ فَإِنَّمَا يَرِثُنِي كَلالَةً، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي صَبِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ عَلَى جَابِرٍ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الْمَاءَ الْمُتَوَضَّأُ بِهِ طَاهِرٌ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ، لأَنَّهُ وَاجِدُ الْمَاءَ الطَّاهِرَ وَإِنَّمَا أَبَاحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ وَكَيْفَ التَّيَمُّمُ لِوَاجِدِ الْمَاءِ الطَّاهِرِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھا اور مجھے ہوش نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر چھڑک دیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (میری) میراث کس کے لیے ہوگی، کیونکہ میری میراث کی صورت کلالہ کی ہے، تو وراثت کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوگئی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے وضو کے بچے ہوئے پانی کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر چھڑکنا اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جس پانی سے وضو کیا گیا ہو وہ پانی پاک ہوتا ہے اور جس شخص کو یہ پانی میسر ہو اس کو تیمم کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ پاک پانی کو پانے والا شمار ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے تیمم کو اس وقت مباح قرار دیا ہے، جب پانی دستیاب نہ ہو تو پاک پانی کو پانے والا شخص تیمم کیسے کر سکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 194، 4577، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1616، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1028، 1030، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 106، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3204، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 138، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2886، 2887، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2096، 2097، 3015، 3015 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 760، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1436، 2728، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14406، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1264، 1265» «رقم طبعة با وزير 1263»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (291): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1266 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري