صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
224. باب الماء المستعمل - ذكر خبر ينفي الريب عن الخلد بالتصريح بإباحة ما ذكرناه
استعمال شدہ پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ کی جواز کو واضح کر کے شک کو دور کرتی ہے
حدیث نمبر: 1267
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً، فَنَفَخَ فِي كَفِيهِ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي تَعْلِيمِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَمُّمَ، وَالاكْتِفَاءُ فِيهِ بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ لِلْوَجْهِ وَالْكَفِينِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ مَرَّةً جَائِزٌ أَنْ يُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ ثَانِيًا، وَذَاكَ أَنَّ الْمُتَيَمِّمَ عَلَيْهِ الْفَرْضُ أَنْ يُيَمِّمَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ جَمِيعًا، فَلَمْا أَجَاز صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَاءَ الْفَرْضِ فِي التَّيَمُّمِ لِكَفِيهِ، بِفَضْلِ مَا أَدَّى بِهِ فَرَضَ وَجْهِهِ صَحَّ، أَنَّ التُّرَابَ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ بِعُضْوٍ وَاحِدٍ جَائِزٌ، أَنْ يُؤَدَّى بِهِ فَرَضُ الْعُضْوِ الثَّانِي بِهِ مَرَّةً أُخْرَى، وَلَمْا صَحَّ ذَلِكَ فِي التَّيَمُّمِ، صَحَّ ذَلِكَ فِي الْوُضُوءِ سَوَاءً.
عبدالرحمن بن ابزی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اس نے کہا: میں جنابت کا شکار ہو جاتا ہوں، مجھے پانی نہیں ملتا (تو مجھے کیا کرنا چاہیے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز نہ پڑھو (جب تک پانی نہیں مل جاتا) سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم میں شریک ہوئے تھے (تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا) اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر مسح کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تیمم کی تعلیم دیتے ہوئے چہرے اور دونوں ہاتھوں کے لیے ایک ہی ضرب پر اکتفاء کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں جس کے ذریعے فرض کو ادا کیا گیا ہو اس کے ذریعے دوسرے فرض کو ادا کرنا جائز ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ تیمم کرنے والے شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم میں دونوں ہاتھوں کے لیے اس چیز کو جائز قرار دیا ہے، جو اس کی ہتھیلی پر چہرے کے فرض کو ادا کرنے کے بعد بچا رہنے والا (غبار ہے) تو یہ بات درست ہو گی کہ وہ مٹی جس کے ذریعے ایک ضرب کے فرض کو ادا کیا گیا ہے، یہ بات جائز ہے کہ اس کے ذریعے دوسری مرتبہ میں دوسرے عضو کے فرض کو ادا کیا جائے، تو جب یہ بات تیمم میں درست ہو گی تو وضو میں بھی درست ہو گی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، 140، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، 1303، 1306، 1308، 1309، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، 327، 328، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والدارقطني فى (سننه) برقم: 693، 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144» «رقم طبعة با وزير 1264»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (158 و 161): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، والحكم: هو ابن عتيبة، وذر: هو ابن عبد الله المُرهبي، وابن عبد الرحمن بن أبزى اسمه: سعيد، وأبوه عبد الرحمن: صحابي صغير، وكان في عهد عمر رجلاً، وكان على خراسان لعلي رضي الله عنهم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1267 in Urdu
عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي ← عمار بن ياسر العنسي