صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
247. باب جلود الميتة - ذكر البيان بأن الانتفاع بجلود الميتة بعد الدباغ جائز
مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مردار کی کھالوں سے دباغت کے بعد نفع اٹھانا جائز ہے
حدیث نمبر: 1291
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنْمٌ بِأُحُدٍ، فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ : لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ وَيَحِلُّ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابِهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ" .
عبداللہ بن مالک اپنی والدہ سیدہ عالیہ بنت سبیع رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری بکریاں احد پہاڑ کے پاس موجود تھیں، ان میں سے ایک مر گئی تھی، میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا: تم اس کی کھال لے کر نفع حاصل کر لو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں (میں نے دریافت کیا:) کیا یہ جائز ہے؟ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کچھ افراد کے پاس سے گزرے جو اپنی بکری کو یوں کھینچ رہے تھے جیسے گدھے کو کھینچا جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کیوں نہیں حاصل کر لیتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «الْمَاءُ وَالْقَرَظُ» ”پانی اور قرظ کے پتے“ اسے پاک کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 364، وابن الجارود فى "المنتقى"، 941، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1283، 1285، 1289، 1291، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4245، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4120، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3610، والدارقطني فى (سننه) برقم: 108، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27437» «رقم طبعة با وزير 1288»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2163).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عبد الله بن مالك بن حذافة لم يوثقه غير المؤلف، وأمه العالية: قال العجلي: مدنية تابعية ثقة، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1291 in Urdu
العالية بنت سبيع المدنية ← ميمونة بنت الحارث الهلالية