صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. باب الفطرة - ذكر العلة التي من أجلها قال صلى الله عليه وسلم أوليس خياركم أولاد المشركين-
فطرت کا بیان - اس علت کا بیان جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أوليس خياركم أولاد المشركين» .
حدیث نمبر: 134
سَمِعْتُ أَبَا خَلِيفَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ أَقْوَامٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلاسِلِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِبَ رَبُّنَا" مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهِيَأُ عِلْمُ الْمُخَاطَبِ بِمَا يُخَاطَبُ بِهِ فِي الْقَصْدِ، إِلا بِهَذِهِ الأَلْفَاظِ الَّتِي اسْتَعْمَلَهَا النَّاسُ فِيمَا بَيْنَهُمْ، وَالْقَصْدُ فِي هَذَا الْخَبَرِ السَّبْيُ الَّذِي يَسْبِيهُمُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ دَارِ الشِّرْكِ مُكَتَّفِينَ فِي السَّلاسِلِ يُقَادُونَ بِهَا إِلَى دُورِ الإِسْلامِ حَتَّى يُسْلِمُوا فَيَدْخُلُوا الْجَنَّةَ، وَلِهَذَا الْمَعْنَى أَرَادَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ فِي خَبَرِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ" أَوَ لَيْسَ خِيَارَكُمْ أَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ"، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ أُطْلِقَتْ أَيْضًا بِحَذْفِ" مِنْ" عَنْهَا، يُرِيدُ: أَوَ لَيْسَ مِنْ خِيَارِكُمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہمارا پروردگار ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے، جنہیں بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جایا جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ہمارا پروردگار ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے۔“ یہ لوگوں کے محاورے کے مطابق ہے، کیونکہ جب کسی شخص کے ساتھ کلام کیا جاتا ہے تو وہی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہوتے ہیں اور اس روایت میں جکڑے جانے سے مراد یہ ہے: مسلمانوں نے ان لوگوں کو مشرکین کے علاقوں سے قیدی بنایا ہو گا، انہیں زنجیروں میں باندھا گیا ہو گا اور پھر اسلامی سلطنت کی طرف لایا گیا ہو گا، یہاں تک کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی یہی مراد ہے: ”کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟“ ان الفاظ سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے: یہاں لفظ «مِنْ» کو محذوف سمجھا جائے اور مراد یہ ہو: ”مشرکین کی اولاد میں سے کچھ لوگ تمہارے بہترین لوگوں میں سے نہیں ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3010، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 134، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2677، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8128، 9394، 9915، 10026، والبزار فى (مسنده) برقم: 9585، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 35250»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (573): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 134 in Urdu
محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي