صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
304. باب الحيض والاستحاضة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن خبر عائشة هذا تفرد به عروة بن الزبير
حیض اور استحاضہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ خبر عروہ بن زبیر نے تنہا بیان کی
حدیث نمبر: 1352
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعُمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِحَيْضَةٍ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ فِي مِرْكَنِ حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى يَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ام حبیبہ بنت جحش، سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی اہلیہ تھیں۔ انہیں سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی۔ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ حیض نہیں ہے بلکہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے تم غسل کر کے نماز ادا کرتی رہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ خاتون ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھی وہ پتھر کے بنے ہوئے ٹب میں بیٹھ جاتی تھی، اور اس کی بہن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا تھا یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1352]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1349»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق