صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. باب الفطرة - ذكر الخبر المصرح بأن نهيه صلى الله عليه وسلم عن قتل الذراري من المشركين كان بعد قوله صلى الله عليه وسلم هم منهم-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمانا آپ کے اس فرمان «هم منهم» کے بعد تھا۔
حدیث نمبر: 137
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ"، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ: أَنَقْتُلُهُمْ مَعَهُمْ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ"، ثُمَّ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا ہم ان لوگوں کو ان کے ساتھ قتل کر دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! یہ ان لوگوں کا حصہ ہیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1825، 2370، 2573، 2596، 3012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1193، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1289، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2637، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 136، 137، 3967، 3969، 4684، 4786، 4787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2371، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2818، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3787، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2672، 3083، 3084، والترمذي فى (جامعه) برقم: 849، 1570، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2839، 3090، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2631، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4577، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16683، والحميدي فى (مسنده) برقم: 799»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2397).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، محمد بن عمرو هو ابن علقمة بن وقاص الليثي المدني، قال الحافظ في"التقريب": صدوق له أوهام، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 137 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← الصعب بن جثامة الليثي