صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. باب التكليف - ذكر الإخبار عن نفي تكليف الله عباده ما لا يطيقون-
تکلیف کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں بتایا گیا کہ اللہ اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔
حدیث نمبر: 139
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةُ: لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284 أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ، وَقَالُوا: لا نُطِيقُ، لا نَسْتَطِيعُ، كُلِّفْنَا مِنَ الْعَمَلِ مَا لا نُطِيقُ وَلا نَسْتَطِيعُ، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ سورة البقرة آية 285 إِلَى قَوْلِهِ: غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابِ مِنْ قَبْلُكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا، بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ"، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ:" نَعَمْ"، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا، فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 284] ”آسمانوں میں جو کچھ ہے، اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اگر تم اسے ظاہر کر دیتے ہو، یا پوشیدہ رکھتے ہو، تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں تم سے حساب لے گا، اور پھر وہ جس شخص کی چاہے گا مغفرت کر دے گا اور جس کو چاہے گا، وہ عذاب دے گا، اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور انہوں نے عرض کی: ”ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے، ہم اس کی استطاعت نہیں رکھتے، ہمیں ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا گیا ہے، جس کی ہم طاقت بھی نہیں رکھتے اور استطاعت بھی نہیں رکھتے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة البقرة: 285] ”رسول اس چیز پر ایمان لایا ہے، جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی ہے، اور اہل ایمان بھی ایمان لاتے ہیں“۔ یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾ [سورة البقرة: 285] ”تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار! اور بے شک تیری ہی طرف لوٹنا ہے“۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم لوگ اس طرح نہ کہو، جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا: «سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا» ”ہم نے یہ بات سن لی ہے، ہم اس کی نافرمانی کرتے ہیں“ بلکہ تم لوگ یہ کہو: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ”ہم نے یہ بات سن لی ہے، اور ہم اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! مغفرت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، اور تیری طرف لوٹنا ہے“۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کی استطاعت کے مطابق پابند کرتا ہے، جو وہ کمائے گا، وہ اسے مل جائے گا اور جو وہ خرابی کرے گا اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا۔ اے ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں، یا غلطی کریں، تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا“۔ پروردگار نے فرمایا: ”جی ہاں!“ (وہ لوگ یہ دعا کریں گے) ﴿رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾ [سورة البقرة: 286] ”اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں اس چیز کا پابند نہ کرنا، جس کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور تو ہم سے درگزر کرنا اور ہماری مغفرت کرنا اور ہم پر رحم کرنا تو ہمارا آقا ہے، اور تو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد کرنا“۔ تو پروردگار فرمائے گا: ”جی ہاں!“ (یعنی میں ایسا ہی کروں گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9468، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1629»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 139 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي