صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
359. باب الاستطابة - ذكر الإباحة للنساء أن يخرجن إلى الصحارى للبراز عند عدم الكنف في بيوتهن
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عورتوں کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کنف نہ ہونے کی صورت میں رفع حاجت کے لیے صحراؤں میں جائیں
حدیث نمبر: 1409
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ امْرَأَةً جَسِيمَةً، وَكَانَتْ إِذَا خَرَجَتْ لِحَاجَتِهَا بِاللَّيْلِ أَشْرَفَتْ عَلَى النِّسَاءِ، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: انْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ، فَإِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفِينَ عَلَيْنَا إِذَا خَرَجْتِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سَوْدَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ، فَمَا رَدَّ الْعَرْقَ مِنْ يَدِهِ حَتَّى فَرَغَ الْوَحْيُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَكُنَّ رُخْصَةً أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بھاری رقم خاتون تھیں۔ وہ جب رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے جاتی تھیں تو خواتین کے درمیاں نمایاں ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور بولے: آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ کیسی حالت میں باہر آئی ہیں۔ اللہ کی قسم! جب آپ باہر آتی ہیں، تو ہم سے پوشیدہ نہیں رہتی ہیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک بوٹی تھی۔ ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک سے واپس نہیں رکھا تھا یہاں تک کہ وحی مکمل ہو گئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے تم خواتین کے لئے یہ رخصت دی ہے، تم قضائے حاجت کے لئے گھر سے باہر نکل سکتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1406»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الجلباب» (105): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد. الطفاوي: هو محمد بن عبد الرحمن من شيوخ أحمد بن حنبل، وثقة ابن المديني، وقال أبو حاتم: صدوق إلا أنه يهم أحيانا، وقال ابن معين: لا بأس، به، وقال أبو زرعة منكر الحديث، وأورد له ابن عدي عدة أحاديث، وقال: إنه لا بأس، به، وله في البخاري ثلاثة أحاديث (2057) و (6416) و (6998)، وباقي رجاله على شرطهما.
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق