صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
360. باب الاستطابة - ذكر الأمر بالاستتار لمن أراد البراز عنده
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ رفع حاجت کے ارادے پر پردہ کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 1410
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ ، بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”(استنجا کرتے ہوئے) جو شخص پتھر استعمال کرتا ہے اسے طاق تعداد میں استعمال کرنے چاہئیں اگر وہ ایسا کرتا ہے، تو اچھی بات ہے، اور جو شخص قضائے حاجت کے لئے جائے اسے پردہ کر لینا چاہئے اگر اسے پردہ کرنے کے لئے صرف ریت کا ٹیلہ ملتا ہے (تو اس سے ہی پردہ کرنا چاہئے)، کیونکہ شیطان اولاد آدم کی شرم گاہوں سے کھیلتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1407»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (8).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عامر بن سعد الحبراني ← أبو هريرة الدوسي