صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. باب التكليف - ذكر خبر أوهم من لم يتفقه في صحيح الآثار ولا أمعن في معاني الأخبار أن وجود ما ذكرنا هو محض الإيمان-
تکلیف کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس شخص کو، جو صحیح آثار و معانی میں غور نہ کرے، یہ وہم دے سکتا ہے کہ مذکورہ چیز کا پایا جانا ہی ایمان ہے۔
حدیث نمبر: 146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا شَيْئًا لأَنْ يَكُونَ أَحَدُنَا حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ:" ذَاكَ مَحْضُ الإِيمَانِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: وَجَدَ الْمُسْلِمُ فِي قَلْبِهِ، أَوْ خَطَرَ بِبَالِهِ مِنَ الأَشْيَاءِ الَّتِي لا يَحِلُّ لَهُ النُّطْقُ بِهَا، مِنْ كَيْفِيَّةِ الْبَارِي جَلَّ وَعَلا، أَوْ مَا يُشْبِهُ هَذِهِ، فَرَدَّ ذَلِكَ عَلَى قَلْبِهِ بِالإِيمَانِ الصَّحِيحِ، وَتَرَكَ الْعَزْمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا، كَانَ رَدُّهُ إِيَّاهَا مِنَ الإِيمَانِ، بَلْ هُوَ مِنْ صَرِيحِ الإِيمَانِ، لا أَنَّ خَطَرَاتٍ مِثْلَهَا مِنَ الإِيمَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں اپنے ذہن میں ایسے خیالات آتے ہیں، ہم میں سے کسی ایک کا راکھ ہو جانا، یہ اس کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ وہ اس خیال کو بیان کرے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ محض ایمان ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب مسلمان اپنے دل میں ایسی چیز پائے یا اس کے ذہن میں ایسا خیال آئے جس کے بارے میں کلام کرنا اس کے لئے جائز نہ ہو، جواللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کیفیت ہو، یا اس کے ساتھ مشابہہ ہو، اور پھر وہ صحیح ایمان کے ہمراہ اپنے دل سے اسے مسترد کر دے اور ان میں سے کسی بھی چیز پر پختہ ہونے کو ترک کر دے تو اس کا اس وسوسے کو مسترد کرنا ایمان کا حصہ ہے، بلکہ یہ صریح ایمان ہے۔ (حدیث کے الفاظ سے) یہ مراد نہیں ہے: اس طرح کے خیالات کا آنا ایمان کا حصہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 146]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب مسلمان اپنے دل میں ایسی چیز پائے یا اس کے ذہن میں ایسا خیال آئے جس کے بارے میں کلام کرنا اس کے لئے جائز نہ ہو، جواللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کیفیت ہو، یا اس کے ساتھ مشابہہ ہو، اور پھر وہ صحیح ایمان کے ہمراہ اپنے دل سے اسے مسترد کر دے اور ان میں سے کسی بھی چیز پر پختہ ہونے کو ترک کر دے تو اس کا اس وسوسے کو مسترد کرنا ایمان کا حصہ ہے، بلکہ یہ صریح ایمان ہے۔ (حدیث کے الفاظ سے) یہ مراد نہیں ہے: اس طرح کے خیالات کا آنا ایمان کا حصہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 145، 146، 148، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10426، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5111، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9279»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الظلال» (655 و 656).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن. عاصم بن بهدلة: صدوق له أوهام، فهو حسن الحديث.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 146 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي