صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
47. باب مواقيت الصلاة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم يسفر بصلاة الغداة قط إلا مرة
نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کو کبھی روشن نہیں کیا سوائے ایک مرتبہ
حدیث نمبر: 1494
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الِمَنْبَرِ فَأَخَّرَ الصَّلاةَ شَيْئًا، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا عَلَمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ عُرْوَةُ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلاةِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ"، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ، فِينْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاةِ، فِيأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعُ النَّاسُ، وَصَلَّى الصُّبْحُ بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ كَانَتْ صَلاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ، حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ" .
اسامہ بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے نماز ادا کرنے میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے وقت کے بارے میں خبر دی تھی؟ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: اے عروہ! آپ دھیان کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابومسعود رحمہ اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جبریل نازل ہوئے، انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تو میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی انگلیوں پر گنتی کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں یہ بات بتائی۔ (سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور جب گرمی شدید ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اسے تاخیر سے بھی ادا کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا اور اس میں زردی داخل نہیں ہوئی ہوتی تھی، اور کوئی شخص یہ نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب افق سیاہ ہو جاتا تھا۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں تاخیر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ جب لوگ اکٹھے ہو جاتے (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اسے ادا کرتے تھے)۔ صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے، پھر بعد میں کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روشنی میں بھی ادا کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز اندھیرے میں ہی ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہ نماز روشنی میں ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 610، 611، ومالك فى (الموطأ) برقم: 5، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 352، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1448، 1449، 1450، 1494، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 697، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 493، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 668، والدارقطني فى (سننه) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17364» «رقم طبعة با وزير 1492»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (418)، «الإرواء» (1/ 269 - 270).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1494 in Urdu
بشير بن أبي مسعود الأنصاري ← أبو مسعود الأنصاري