صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
61. باب مواقيت الصلاة - ذكر العلة التي من أجلها أمر بالإبراد بالظهر في شدة الحر
نماز کے اوقات کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر شدید گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1510
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، مَوْلَى أَسْوَدَ بْنِ سُفِيانَ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ" . وَذُكِرَ: وَذُكِرَ:" أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِهَا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفْسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب گرمی ہو، تو تم (ظہر کی) نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی کہ جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی، تو اس کے پروردگار نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی: ”ایک سانس گرمی کے موسم میں ہوتی ہے، اور ایک سانس سردی کے موسم میں ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 533، 536، 3260، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 615، وابن الجارود فى "المنتقى"، 174، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 329، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1504، 1506، 1507، 1510، 7466، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 499، وأبو داود فى (سننه) برقم: 402، والترمذي فى (جامعه) برقم: 157، 2592،، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 677، 678، 4319، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7251» «رقم طبعة با وزير 1508»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1510 in Urdu
محمد بن عبد الرحمن القرشي ← أبو هريرة الدوسي