🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب فرض الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهُمْ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلُكَ، آلِلَّهِ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنَ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنَتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ .
شریک بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ اس نے مسجد میں اس اونٹ کو بٹھایا اور پھر اسے باندھ دیا۔ پھر اس نے لوگوں سے دریافت کیا: آپ میں سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اسے کہا: یہ سفید رنگت کے مالک، ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے صاحب (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے عبدالمطلب کے صاحبزادے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا: میں تمہیں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ اس نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے کچھ سوال کروں گا اور سوال کرتے ہوئے ذرا سختی کا اظہار کروں گا، تو آپ مجھ سے ناراض نہ ہوئیے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں، جو مناسب لگتا ہے تم پوچھو۔ اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے پرورگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے، ہم روزانہ پانچ نمازیں پڑھا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے، ہم سال میں اس مہینے میں روزے رکھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے، آپ ہمارے خوشحال لوگوں سے زکوۃ وصول کریں اور اسے ہمارے غریب لوگوں میں تقسیم کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں! اس شخص نے کہا: آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، میں اپنے پیچھے (موجود) اپنی قوم کا نمائندہ ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے، جس کا تعلق بنو سعد بن بنوبکر سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 63، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2358، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 154، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2091، 2092، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2413، 2414، وأبو داود فى (سننه) برقم: 486، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1402، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4400، 13258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12916، والبزار فى (مسنده) برقم: 6192، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5938»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (504): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح؛ عيسى بن حماد: هو ابن مسلم التجيبي، وباقي السند من رجال الشيخين.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥شريك بن عبد الله الليثي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله الليثي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق يخطئ
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← شريك بن عبد الله الليثي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عيسى بن حماد التجيبي، أبو موسى
Newعيسى بن حماد التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص
Newعمر بن محمد الهمذاني ← عيسى بن حماد التجيبي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 154 in Urdu