صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
29. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر الدال على أن الإيمان والإسلام اسمان بمعنى واحد-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایمان اور اسلام ایک ہی معنی کے دو نام ہیں
حدیث نمبر: 159
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلائِكَتِهِ، وَرُسُلِهِ، وَلِقَائِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الإِسْلامُ؟ قَالَ:" لا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ"، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَرَأَيْتَ الْعُرَاةَ الْحُفَاةَ رُؤُوسَ النَّاسِ، فِي خَمْسٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلا الِلَّهِ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ الآيَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف فرما تھے، اس دوران ایک شخص چلتا ہوا آپ کے پاس حاضر ہوا، اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی بارگاہ میں حاضری پر ایمان رکھو اور تم دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز ادا کرو، تم فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بارے میں جس شخص سے دریافت کیا گیا ہے، وہ دریافت کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا، تاہم میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں بتا دیتا ہوں۔ جب کنیز اپنے آقا کو جنم دے اور جب تم برہنہ جسم، برہنہ پاؤں (لوگوں) کو حکمران دیکھو (تو یہ قیامت کی نشانیاں ہوں گی)؛ پانچ چیزیں ایسی ہیں، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔“ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے﴾ [سورة لقمان: 34] (اس کے بعد پوری آیت ہے) پھر وہ شخص چلا گیا، لوگوں نے اسے تلاش کیا، وہ انہیں نہیں ملا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے، جو اس لیے آئے تھے تاکہ لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 50، 4777، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 9، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 159، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5006، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4698، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 64، 4044، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3639، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9251»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 32 / 3)، «الصحيحة» (2903): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، جرير: هو ابن عبد الحميد الرازي، وأبو حيان التيمي: هو يحيى بن سعيد بن حيان
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 159 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي