🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
219. باب الأذان - ذكر الخبر المصرح بأن النبي صلى الله عليه وسلم هو الذي أمر بلالا بتثنية الأذان وإفراد الإقامة
اذان کا بیان - اس خبر کا واضح ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اذان کو دہرانے اور اقامت کو واحد کرنے کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1679
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: لَمْا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ لِيُضْرَبَ بِهِ، لِيَجْتَمِعَ النَّاسُ إِلَى الصَّلاةِ، أَطَافَ بِي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، وَفِي يَدَهِ نَاقُوسٌ يَحْمِلُهُ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: فَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قُلْتُ: أَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلاةِ، قَالَ: أَفَلا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُؤَذِّنَ تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَلَمْا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قُمْ فَأَلْقِ عَلَى بِلالٍ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا"، فَقُمْتُ مَعَ بِلالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِي عَلَيْهِ، وَيُؤَذِّنُ بِذَلِكَ، فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ، وَهُوَ فِي بَيْتِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَقَامَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، يَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْحَقِّ لأُرِيتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِلَّهِ الْحَمْدُ" .
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بجایا جائے تاکہ لوگ نماز کے لیے اکٹھے ہو جائیں، تو رات کے وقت جب میں سویا ہوا تھا، میرے پاس ایک شخص آیا جس نے دو سبز چادریں پہنی ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس تھا جو اس نے اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تم اس ناقوس کو فروخت کرو گے؟ اس نے دریافت کیا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے جواب دیا: میں اس کے ذریعے نماز کی طرف دعوت دوں گا۔ اس نے دریافت کیا: میں تمہاری رہنمائی اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف نہ کروں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! وہ بولا: جب تم اعلان کرنے کا ارادہ کرو، تو تم یہ کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر وہ کچھ پیچھے ہٹا اور بولا: جب تم نماز قائم کرنے لگو (یعنی اقامت کہو)، تو تم یہ کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» آؤ نماز کی طرف، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» آؤ کامیابی کی طرف، «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» یقیناً نماز قائم ہو گئی، یقیناً نماز قائم ہو گئی، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو یہ خواب حقیقت ثابت ہو گا۔ تم اٹھو اور بلال کو وہ کلمات سکھاؤ جو تم نے (خواب میں) دیکھے ہیں، تو وہ (ان کے مطابق) اذان دے، کیونکہ اس کی آواز زیادہ بلند ہے۔ تو میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور میں انہیں وہ کلمات بتاتا رہا اور وہ اس کے مطابق اذان دیتے رہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی آواز سنی تو وہ اس وقت زوراء کے مقام پر اپنے گھر میں موجود تھے، وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آئے اور بولے: اس ذات کی قسم! جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، مجھے بھی اس طرح کا خواب دکھایا گیا تھا، جس طرح کا اس نے دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ» اس پر ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1679]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 176، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 363، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1679، وأبو داود فى (سننه) برقم: 499، 512، والترمذي فى (جامعه) برقم: 189، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 706، والدارقطني فى (سننه) برقم: 935، 962، 963، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16739» «رقم طبعة با وزير 1677»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (512).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، ابن إسحاق: هو محمد بن إسحاق بن يسار المطلبي مولاهم المدني إمام المغازي، صدوق، وقد صرح بالتحديث فانتفت شبهة تدليسه، وباقي رجاله على شرط الصحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن زيد الأنصاري، أبو محمدصحابي
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← محمد بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن إبراهيم القرشي
صدوق مدلس
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان
Newعمرو بن محمد الناقد ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← عمرو بن محمد الناقد
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 1679 in Urdu