🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
220. باب الأذان - ذكر الأمر بالترجيع بالأذان ضد قول من كرهه
اذان کا بیان - اذان میں ترجیع کے حکم کا ذکر، اس کے برخلاف جو اسے ناپسند کرتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1680
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الشَّامِ، وَإِنِّي أَسْأَلُ عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبِرْنِي، قَالَ: خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، فَكُنَّا فِي بَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ، مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا الصَّوْتَ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ عَنِ الطَّرِيقِ، فَصَرَخْنَا نَسْتِهْزِئُ، نَحْكِيهِ، فَسَمِعَ الصَّوْتَ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يَعْرِفُ هَذَا الَّذِي أَسْمَعُ الصَّوْتَ؟"، قَالَ: فَجِيءَ بِنَا، فَوَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ صَاحِبُ الصَّوْتِ؟"، قَالَ: فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ، قَالَ: فَأَرْسَلَهُمْ وَحَبَسَنِي عِنْدَهُ، وَلا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي بِالأَذَانِ، وَأَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ نَفْسُهُ الأَذَانَ، فَقَالَ: " قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" ارْجِعْ وَامْدُدْ صَوْتَكَ"، قَالَ:" أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"، فَلَمْا فَرَغَ مِنَ التَّأْذِينِ دَعَانِي فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَبَارِكْ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ، قَالَ:" قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ" ، قَالَ: فَعَادَ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْكَرَاهِيَةِ فِي الْقَلْبِ إِلَى الْمَحَبَّةِ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ عَامَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أُأَذِّنُ بِمَكَّةَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِي خَبَرَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ هَذَا عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ.
عبداللہ محیریز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے زیرِ پرورش تھے، جب یہ شام جانے لگے تو یہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جانے لگا ہوں، مجھ سے اذان کے واقعے کے بارے میں دریافت کیا جائے گا، تو آپ مجھے اس بارے میں بتائیے، تو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم کچھ لوگ روانہ ہوئے، ہم حنین کے راستے میں کسی جگہ پر تھے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا راستے میں ہم سے ہوا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اذان دی، ہم نے اس کی آواز سنی، ہم راستے سے ایک طرف ہٹ چکے تھے، تو ہم نے اس کا مذاق اڑانے کے لیے ان کلمات کو بلند آواز میں دہرانا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز سن لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم میں سے کون اس شخص کو جانتا ہے، جس کی آواز کو میں نے سنا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہمیں لا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم میں سے کس کی وہ آواز تھی؟ راوی بیان کرتے ہیں: سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان سب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا، اور مجھے اپنے پاس روک لیا۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اور کوئی نہیں تھی جس کا حکم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان دینے کا حکم دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس میں ترجیع کرو اور اپنی آواز کو بلند کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جب وہ اذان دے کر فارغ ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَبَارِكْ عَلَيْهِ» اے اللہ! اس میں برکت دے اور اس پر برکت دے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے اذان دینے کا حکم دیجیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تمہیں حکم دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو میرے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جتنی بھی ناپسندیدگی تھی وہ سب محبت میں تبدیل ہو گئی، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ گورنر سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت میں نے مکہ میں اذان دینا شروع کر دی۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے خاندان کے کئی افراد نے ابن محیریز رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ روایت سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے سنائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 379، وابن الجارود فى "المنتقى"، 180، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 377، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1680، 1681، 1682، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 628، والترمذي فى (جامعه) برقم: 191، 192، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 708، 709، والدارقطني فى (سننه) برقم: 901، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15612» «رقم طبعة با وزير 1678»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (518).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن وهو حديث صحيح بطرقه، عبد العزيز بن عبد الملك روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات»، وباقي رجال السند على شرط الشيخين، محمد بن بكر: هو محمد بن بكر بن عثمان البرساني.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو محذورة القرشي، أبو محذورةصحابي
👤←👥عبد الله بن محيريز الجمحي، أبو محيريز
Newعبد الله بن محيريز الجمحي ← أبو محذورة القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن عبد الملك القرشي
Newعبد العزيز بن عبد الملك القرشي ← عبد الله بن محيريز الجمحي
مقبول
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبد العزيز بن عبد الملك القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← محمد بن بكر البرساني
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 1680 in Urdu