صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
263. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به الأعمش
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ حدیث صرف اعمش نے بیان کی
حدیث نمبر: 1726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، مَا تَقُولُونَ، هَلْ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا؟". قَالُوا: لا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ. قَالَ:" ذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو تم اس بارے میں کیا کہتے ہو۔ کیا (یہ عمل) اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی رہنے دے گا۔ لوگوں نے عرض کی: اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1723»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، قتيبة: هو ابن سعيد، وابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، ومحمد بن إبراهيم: هو التيمي.
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي