صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
277. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر وصف البردين اللذين يرجى دخول الجنة بالصلاة عندهما
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - دونوں ٹھنڈکوں کی کیفیت کا ذکر جن کے وقت نماز پڑھنے سے جنت کی امید کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 1741
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي مَوَاقِيتِهَا. قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ أَشْتَغِلُ فِيهَا، فَمُرْ لِي بِجَوَامِعَ. قَالَ: فَقَالَ:" إِنْ شُغِلْتَ، فَلا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَيْنِ". قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ:" صَلاةُ الْغَدَاةِ، وَصَلاةُ الْعَصْرِ" .
سیدنا فضالہ بن عبدالله لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اسلام قبول کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخصوص اوقات میں پانچ نمازیں ادا کرنے کی تعلیم دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ سے دریافت کیا یہ تو وہ اوقات ہیں جن میں، میں مشغول ہوتا ہوں۔ آپ مجھے کچھ جامع چیزوں کے بارے میں حکم دیں، تو راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مشغول ہوتے ہو تو عصر کی دو نمازوں کے بارے میں مصروف نہ ہونا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا۔ عصر کی دو نمازیں کون سی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صبح کی نماز اور عصر کی نماز۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1738»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (454).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن أبا حرب بن أبي الأسود لم يسمع من فضالة، وبينهما عبد الله بن فضالة كما في الرواية التي سيذكرها المصنف بعد هذه، وهشيم مدلس، وقد صرح بالتحديث عند أحمد فانتفت شبهة تدليسه.
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي الأسود الديلي ← فضالة الليثي