صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
278. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر البيان بأن الأمر بالمحافظة على العصرين إنما هو أمر تأكيد عليهما من بين الصلوات لا أنهما يجزيان عن الكل
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ دونوں عصرین کی پابندی کا حکم دیگر نمازوں کے مقابلے میں ان پر زور دینے کے لیے ہے، نہ کہ وہ تمام نمازوں کی جگہ لے سکتے ہیں
حدیث نمبر: 1742
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، بِفَمِ الصِّلْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا، قَالَ: " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ، وَحَافِظُوا عَلَى الْعَصْرَيْنِ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ:" صَلاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ، وَمِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ فَضَالَةَ، وَأَدَّى كُلَّ خَبَرٍ بِلَفْظِهِ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ. وَالْعَرَبُ تَذْكُرُ فِي لُغَتِهَا أَشْيَاءَ عَلَى الْقِلَّةِ وَالْكَثْرَةِ، وَتُطْلِقُ اسْمَ الْقَبْلِ عَلَى الشَّيْءِ الْيَسِيرِ، وَعَلَى الْمُدَّةِ الطَّوِيلَةِ، وَعَلَى الْمُدَّةِ الْكَبِيرَةِ، كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ: يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ قَبْلَ السَّاعَةِ كَذَا، وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ مُنْذُ سِنِينَ كَثِيرَةٍ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ اسْمَ الْقَبْلِ يَقَعُ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، لا أَنَّ الْقَبْلَ فِي اللُّغَةِ يَكُونُ مَقْرُونًا بِالشَّيْءِ حَتَّى لا يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ إِلا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلا الْعَصْرَ إِلا قَبْلَ غُرُوبِهَا إِرَادَةَ إِصَابَةِ الْقَبْلِ فِيهَا.
عبداللہ بن فضالہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: اللہ کے رسول نے ہمیں تعلیم دی آپ نے ہمیں جو تعلیم دی اس میں یہ بات بھی تھی کہ عصر کی دو نمازوں سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورج طلوع ہونے سے پہلے کی نماز اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) داؤد بن ابوہند نے یہ روایت ابوحرب بن ابواسود اور عبداللہ بن فضالہ سے سنی ہے، اس نے ان دونوں روایات کے الفاظ نقل کر دیے ہیں، اس کی دونوں سندیں محفوظ ہیں۔ عرب اپنی زبان میں قلت یا کثرت کی بنیاد پر اشیاء کا تذکرہ کرتے ہیں، وہ لفظ ”قبل“ کو تھوڑی چیز، طویل مدت، بڑی مدت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ قیامت سے پہلے اس، اس طرح کے فتنے ہوں گے۔ حالانکہ یہ فتنے (قیامت سے) کئی برس پہلے ہوں گے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے، لفظ ”قبل“ اس مفہوم کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے، ایسا نہیں ہے کہ لفظ ”قبل“ لغت میں کسی چیز کے ساتھ ملے ہونے کے طور پر استعمال ہوتا ہو۔ یہاں تک کہ (یہ حکم ہو) صبح کی نماز صرف سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی، اور عصر کی نماز سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ادا کی جا سکتی ہو، جبکہ اس بارے میں، پورے طور پر ”پہلے ہونے“ کا مفہوم مراد لیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1739»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (455).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن فضالة الليثي ← فضالة الليثي