صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
334. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمرء الجهر ببسم الله الرحمن الرحيم في الموضع الذي وصفناه وإن كان الجهر والمخافتة بهما جميعا طلقا مباحا
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے ہمارے بیان کردہ مقام پر بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے کہنا مستحب ہے، اگرچہ بلند آواز اور آہستہ کہنا دونوں جائز ہیں
حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَرَأَ: بِ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، قَالَ: آمِينَ، وَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ. وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ" ، وَيَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نعیم مجمر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی تو انہوں نے «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» پڑھی، پھر انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی، یہاں تک کہ جب «وَلَا الضَّالِّينَ» تک پہنچے تو انہوں نے «آمِيْن» کہا، تو لوگوں نے بھی «آمِيْن» کہا۔ وہ جب بھی سجدے میں جاتے تھے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے اور جب (تشہد کے لیے) بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے۔ جب انہوں نے سلام پھیر لیا تو انہوں نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 785، 789، 795، 803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 392، وابن الجارود فى "المنتقى"، 205، 214، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 499، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1766، 1767، 1797، 1801، 1806، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 817، وأبو داود فى (سننه) برقم: 738، 836، 934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 254، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1283 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 853، 860، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6272» «رقم طبعة با وزير 1798»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - وهو مختصر (1794). تنبيه!! رقم (1794) = (1797) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، خالد بن يزيد: هو الجمحي، ويقال: السَّكسَكي، أبو عبد الرحمن المصري.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1801 in Urdu
نعيم بن عبد الله المجمر ← أبو هريرة الدوسي