صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
340. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمرء أن يسكت سكتة أخرى عند فراغه من قراءة فاتحة الكتاب
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ سورۃ الفاتحہ کی قراءت مکمل کرنے پر ایک اور خاموشی اختیار کرے
حدیث نمبر: 1807
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ:" سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: حَفِظْنَا سَكْتَةً، فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، بِالْمَدِينَةِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ: أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ: وَمَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ:" إِذَا دَخَلَ فِي صَلاتِهِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَمُرَةَ شَيْئًا، وَسَمِعَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ هَذَا الْخَبَرَ، وَاعْتِمَادُنَا فِيهِ عَلَى عِمْرَانَ دُونَ سَمُرَةَ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو موقعوں پر خاموش رہنا مجھے یاد ہے (راوی کہتے ہیں) میں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کیا، تو وہ مجھے کہتے کہ مجھے تو صرف ایک مرتبه خاموش رہنا یاد ہے پھر ہم نے اس بارے میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں خط لکھا۔ تو انہوں نے جواب سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات صحیح طور پر یاد ہے۔ سعید نامی راوی بیان کرتے ہیں ہم نے قتادہ سے کہا: یہ دو موقعوں پر خاموشی کون سی تھی۔ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کر کے فارغ ہوتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حسن نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے کسی چیز کا سماع نہیں کیا ہے۔ انہوں نے یہ روایت سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، اور اس بارے میں ہمارا اعتماد سیدنا عمران رضی اللہ عنہ (سے منقول روایت) پر ہے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ (سے منقول روایت) پر نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1804»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (818)، «ضعيف أبي داود» (135 - 138).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين، واعتماد المؤلف في تصحيحه على سماع الحسن له من عمران بن حصين، لا على سمرة بن جندب كما سيذكر، عبد الأعلى: هو ابن عبد الأعلى، وسعيد: هو ابن أبي عروبة.
الرواة الحديث:
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري