صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
378. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن الشك في هذا الخبر في الظهر أو العصر إنما هو من أبي عوانة لا من عمران بن حصين
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں شک کہ یہ ظہر کے بارے میں ہے یا عصر کے بارے میں، ابو عوانہ سے ہے، نہ کہ عمران بن حصین سے
حدیث نمبر: 1846
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ - شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ - فَقَالَ: " أَيُّكُمْ قَرَأَ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1؟". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا. فَقَالَ:" قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی، یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کس شخص نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] کی تلاوت کی ہے؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: میں نے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے (تلاوت میں) رکاوٹ ڈال رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 398، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1845، 1846، 1847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 916،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 828، 829، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1240، 1509، 1510، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20129، والحميدي فى (مسنده) برقم: 857» «رقم طبعة با وزير 1843»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير خلف بن هشام البزار، فإنه من رجال مسلم، وهو مكرر ما قبله، وانظر ما بعده.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1846 in Urdu
زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي