پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
80. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الجنة إنما تجب لمن أتى بما وصفنا من شعب الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جنت صرف اسی کے لیے واجب ہے جو ایمان کی بیان کردہ شاخوں پر عمل کرے۔
حدیث نمبر: 210
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعاِذْ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" قَالُوا: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ"، قَالَ:" فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ فَعَلُوا ذَلِكَ؟" قَالُوا: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" يَغْفِرُ لَهُمْ وَلا يُعَذِّبُهُمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلُ كُلُّهَا مُخْتَصَرَةٌ غَيْرُ مُتَقَصَّاةٍ، وَأَنَّ بَعْضَ شُعَبِ الإِيمَانِ أَتَى الْمَرْءُ بِهِ لا تُوجِبُ لَهُ الْجَنَّةَ فِي دَائِمِ الأَوْقَاتِ، أَلا تَرَاهُ، صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا؟ وَعِبَادَةُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ، وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ، وَعَمَلٌ بِالأَرْكَانِ، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ لَمَّا سَأَلُوهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَقِّهِمْ عَلَى اللَّهِ، فَقَالُوا: فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ فَعَلُوا ذَلِكَ؟ وَلَمْ يَقُولُوا: فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ قَالُوا ذَلِكَ، وَلا أَنْكَرَ عَلَيْهِمْ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، فَفِيمَا قُلْنَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْجَنَّةَ لا تَجِبُ لِمَنْ أَتَى بِبَعْضِ شُعَبِ الإِيمَانِ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، بَلْ يُسْتَعْمَلُ كُلُّ خَبَرٍ فِي عُمُومِ مَا وَرَدَ خِطَابُهُ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ فِيهِ، عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ لوگاللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ لوگ ایسا کریں، تو پھر ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ کہ)اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے اور ان کو عذاب نہ دے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ روایات جنہیں ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ مختصر ہیں وہ تفصیلی نہیں ہیں اور ایمان کے بعض شعبے ایسے ہیں کہ جب آدمی ان کا ارتکاب کرتا ہے، تو تمام اوقات میں اس کے لئے جنت واجب نہیں ہوتی۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں پر اللہ حق قرار دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ کی عبادت زبان کے ذریعے اقرار، دل کے ذریعے تصدیق اور اعضاء کے ذریعے عمل ہے۔ پھر مسلمانوں نے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےاللہ تعالیٰ پر اپنے حق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے دریافت کیا ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ ایسا کریں۔ ان لوگوں نے یہ نہیں کہا: ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ یہ کہہ دے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کا انکار بھی نہیں کیا۔ تو ہم نے جو یہ بات بیان کی ہے، اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جنت اس شخص کے لئے واجب نہیں ہوتی ہے، جو ایمان کے کچھ شعبوں کو تمام حالتوں میں بجا لاتا ہے بلکہ ہر روایت کا اپنا عموم ہوتا ہے، اور اس کے حکم کا مخصوص پس منظر ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 210]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ روایات جنہیں ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ مختصر ہیں وہ تفصیلی نہیں ہیں اور ایمان کے بعض شعبے ایسے ہیں کہ جب آدمی ان کا ارتکاب کرتا ہے، تو تمام اوقات میں اس کے لئے جنت واجب نہیں ہوتی۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں پر اللہ حق قرار دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ کی عبادت زبان کے ذریعے اقرار، دل کے ذریعے تصدیق اور اعضاء کے ذریعے عمل ہے۔ پھر مسلمانوں نے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےاللہ تعالیٰ پر اپنے حق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے دریافت کیا ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ ایسا کریں۔ ان لوگوں نے یہ نہیں کہا: ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ یہ کہہ دے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کا انکار بھی نہیں کیا۔ تو ہم نے جو یہ بات بیان کی ہے، اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جنت اس شخص کے لئے واجب نہیں ہوتی ہے، جو ایمان کے کچھ شعبوں کو تمام حالتوں میں بجا لاتا ہے بلکہ ہر روایت کا اپنا عموم ہوتا ہے، اور اس کے حکم کا مخصوص پس منظر ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2856، 5967، 6267، 6267 م، 6500، 7373، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 30، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 210، 200، 362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2643، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4296، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19864، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22413، والحميدي فى (مسنده) برقم: 373»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (721/ 943): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 210 in Urdu
عمرو بن ميمون الأودي ← معاذ بن جبل الأنصاري