🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. باب فرض الإيمان - ذكر كتبة الله جل وعلا الجنة وإيجابها لمن آمن به ثم سدد بعد ذلك-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے جنت کو ان کے لیے لکھ دیا اور واجب کر دیا جو ایمان لائے اور اس پر ثابت قدم رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 212
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رِفَاعَةُ بْنُ عَرَابَةَ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَجَعَلَ نَاسٌ يَسْتَأِذْنُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ أَبْغَضَ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ؟" قَالَ: فَلَمْ نَرَ مِنَ الْقَوْمِ إِلا بَاكِيًا، قَالَ: يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌِ فِي نَفْسِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَكَانَ حَلَف َقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ثُمَّ يُسَدَّدَ إِلا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلا عَذَابٍ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ لا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ" . ثُمَّ قَالَ: " مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ، يَنْزِلُ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ" .
سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے واپس آ رہے تھے۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لینی شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت عطا کرنا شروع کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے، اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ، تمہارے نزدیک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ (یعنی تم لوگ میرے ساتھ نہیں چلنا چاہ رہے) راوی کہتے ہیں: حاضرین میں سے ہر شخص مجھے روتا ہوا نظر آیا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کیا، میرے خیال میں اس کے بعد آپ سے جو شخص اجازت مانگے گا، وہ بے وقوف ہو گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔ آپ جب بھی قسم اٹھاتے تھے، تو یہ کہتے تھے: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ (آپ نے فرمایا): میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص بھیاللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اس کے بعد وہ ٹھیک رہے۔ (یعنی اسلامی احکام پر عمل کرتا رہے) تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ میری اُمت کے ستر ہزار افراد کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور مجھے یہ امید ہے، وہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک تم لوگ اور تمہارے نیک بیوی بچے جنت میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ نہیں جاتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: جب نصف رات۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب رات ہو جاتی ہے، تواللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں سے اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں دریافت نہیں کرتا۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اسے عطا کروں۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے مغفرت طلب کرے، تو میں اس کی مغفرت کر دوں۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے دعا کرتا ہے، تو میں اس کی دعا قبول کروں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 212]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2405).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رفاعة بن عرابة الجهنيصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← رفاعة بن عرابة الجهني
ثقة
👤←👥هلال بن أبي ميمونة القرشي
Newهلال بن أبي ميمونة القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← هلال بن أبي ميمونة القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥عبد الله بن محمد المقدسي، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد المقدسي ← دحيم القرشي
ثقة