صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
83. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار عن إيجاب الجنة لمن حلت المنية به وهو لا يجعل مع الله ندا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کے لیے جنت واجب ہے۔
حدیث نمبر: 213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنُ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا خَلاّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالُوا: سَمِعْنَا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ" قَالَ سُلَيْمَانُ: فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" يُرِيدُ بِهِ: إِلا أَنْ يَرْتَكِبَ شَيْئًا أَوْعَدْتُهُ عَلَيْهِ دُخُولَ النَّارِ، وَلَهُ مَعْنًى آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَمَاتَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ لا مَحَالَةَ، وَإِنْ عُذِّبَ قَبْلُ دُخُولِهِ إِيَّاهَا مُدَّةً مَعْلُومَةً.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ میری اُمت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اور اس نے چوری کی ہو۔“ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے زید نامی راوی سے کہا: یہ روایت تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میری امت کا جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ اس سے مراد یہ ہے: اس نے کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہ کیا ہو، جس کے حوالے سے میں نے جہنم میں داخل ہونے کی وعید سنائی ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا اور وہ اس حالت میں مر جاتا ہے وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے اسے ایک متعین مدت تک عذاب دیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 213]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة»، انظر (169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، خلاد بن أسلم: ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
زيد بن وهب الجهني ← أبو ذر الغفاري