🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

83. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار عن إيجاب الجنة لمن حلت المنية به وهو لا يجعل مع الله ندا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کے لیے جنت واجب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنُ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا خَلاّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالُوا: سَمِعْنَا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ" قَالَ سُلَيْمَانُ: فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" يُرِيدُ بِهِ: إِلا أَنْ يَرْتَكِبَ شَيْئًا أَوْعَدْتُهُ عَلَيْهِ دُخُولَ النَّارِ، وَلَهُ مَعْنًى آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَمَاتَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ لا مَحَالَةَ، وَإِنْ عُذِّبَ قَبْلُ دُخُولِهِ إِيَّاهَا مُدَّةً مَعْلُومَةً.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ میری اُمت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اور اس نے چوری کی ہو۔ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے زید نامی راوی سے کہا: یہ روایت تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: میری امت کا جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے: اس نے کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہ کیا ہو، جس کے حوالے سے میں نے جہنم میں داخل ہونے کی وعید سنائی ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا اور وہ اس حالت میں مر جاتا ہے وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے اسے ایک متعین مدت تک عذاب دیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 213]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة»، انظر (169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، خلاد بن أسلم: ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 214
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذْ بْنِ جَبَلٍ، وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذْ بْنَ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ:" بَخٍ بَخٍ سَأَلْتَ عَنْ أَمْرٍ عَظِيمٍ، وَهُوَ يَسِيرٌ لِمَنْ يَسَّرَهُ الِلَّهِ بِهِ، تُقِيمُ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَلا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا" أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الشِّرْكِ.
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسے کسی عمل کے بارے میں بتائیے، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے اور یہ اس کے لئے آسان ہے، جس کے لئےاللہ تعالیٰ اسے آسان کر دے۔ تم فرض نمازیں ادا کرو، زکوۃ ادا کرو اور (کسی کو) اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ اس سے مراد شرک کو ترک کرنے کا حکم دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 214]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح. [وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ] قال الشيخ: إسناده حسنٌ من طريقِ عُميرِ بنِ هانئٍ، للخلافِ المعروفِ في ابنِ ثَوبان - واسمُه: عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان -. وإسناده عن مكحول كذلك، لأن مكحولاً وصم بالتدليس، وقد عنعن. وللحديثِ طرقٌ، صحَّح بعضها الترمذي وغيرُه، كما في تعليقي على كتاب «الإيمان» لابن أبي شيبةَ (2/ 2 - 3).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن. ابن ثوبان: هو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، العنسي الدمشقي، قال الحافظ في "التقريب": صدوق يخطئ. وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں