صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
664. باب فرض متابعة الإمام - ذكر السبب الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم هذا القول
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
حدیث نمبر: 2147
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاةِ. قَالَ:" لا تَسْتَعْجِلُوا إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا" .
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کی تیز آہٹ سنی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے انہیں بلوایا اور دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نماز کی طرف جلدی آنا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرو تم نماز کی طرف آؤ تو سکون سے چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو اور جو پہلے گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2147]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2144»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق. *قال الناشر: هذا الحديث ساقط من الأصل، ومعه خطأ في ترقيمه؛ بحيث قَفَزَ الترقيم رقما واحدا!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي