🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

664. باب فرض متابعة الإمام - ذكر السبب الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم هذا القول
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2147
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاةِ. قَالَ:" لا تَسْتَعْجِلُوا إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا" .
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کی تیز آہٹ سنی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے انہیں بلوایا اور دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نماز کی طرف جلدی آنا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرو تم نماز کی طرف آؤ تو سکون سے چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو اور جو پہلے گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2147]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2144»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق. *قال الناشر: هذا الحديث ساقط من الأصل، ومعه خطأ في ترقيمه؛ بحيث قَفَزَ الترقيم رقما واحدا!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2148
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْحَاقِ أبي عبد الله ، أنهما أخبراه أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ، فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلاةٍ مَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلاةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ سورة الجمعة آية 9، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ". فَالسَّعْيُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا بِهِ هُوَ الْمَشْيُ إِلَى الصَّلاةِ عَلَى هَيْنَةِ الإِنْسَانِ، وَالسَّعْيُ الَّذِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ هُوَ الاسْتِعْجَالُ فِي الْمَشْيِ، لأَنَّ الْمَرْءَ تُكْتَبُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلاةِ حَسَنَةٌ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ، يَعْنِي فِي تَرْجَمَةِ نَوْعِ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّ الْعَرَبَ تُوقِعَ فِي لُغَتِهَا الاسْمَ الْوَاحِدَ عَلَى الشَّيْئَيْنِ الْمُخْتَلِفِي الْمَعْنَى، فَيَكُونُ أَحَدُهُمَا مَأْمُورًا بِهِ، وَالآخَرُ مَزْجُورًا عَنْهُ. إِسْحَاقُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى زَائِدَةَ مِنَ التَّابِعِينَ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو تم دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ بلکہ سکون سے چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں مل جائے اسے ادا کر لو اور جو گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو کیونکہ جب کوئی شخص نماز کی طرف جاتا ہے، تو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے جاؤ۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ کہ تم لوگ دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ تو وہ تیزی جس سے حکم اللہ نے دیا ہے۔ اس سے مراد آدمی کا سکون کی حالت میں نماز کی طرف چل کر جانا ہے اور وہ تیزی جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اس سے مراد تیز رفتاری سے چلنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کے ہر ایک قدم کے عوض میں اس کے لیے نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی اس نوعیت کی احادیث کی وضاحت میں یہ بات ذکر کی ہے۔ کہ جب عرب اپنی زبان میں کسی ایک اسم کو دو مختلف چیزوں کے لیے استعمال کریں۔ تو ان دونوں میں سے کوئی ایک ماموربہ بہی بھی ہو سکتا اور دوسرا ممنوع ہو سکتا ہے۔ اسحاق ابوعبداللہ جو زاہدہ کا غلام ہے وہ تابعین سے تعلق رکھتا ہے یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2145»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (580).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ، فَلا تُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب تم وضو کر کے مسجد میں داخل ہو جاؤ تو تم اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2146»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1294)، «التعليق الرغيب» (1/ 123).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، ابن عجلان -واسمه محمد-: صدوق روى له مسلم متابعة، وباقي رجاله على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں