صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
763. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الإباحة للمرء أن يرد السلام إذا سلم عليه وهو يصلي بالإشارة دون النطق باللسان
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اگر اسے سلام کیا جائے تو وہ اپنی نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دے، نہ کہ زبان سے بول کر
حدیث نمبر: 2258
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَدَخَلَ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ:" كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لائے (راوی کہتے ہیں) یعنی مسجدِ قبا میں تشریف لائے، تو کچھ انصار مسجد میں آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، یہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نماز کے دوران سلام کیا گیا تو پھر آپ نے کیا کیا تھا؟ تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا: آپ نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارے (کے ذریعے جواب دیا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 238، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4301، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 927، والترمذي فى (جامعه) برقم: 368، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1017، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4657» «رقم طبعة با وزير 2255»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (318)، «صحيح أبي داود» (860).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، إبراهيم بن بشار الرمادي حافظ مستقيم من أهل الصدق، لكن تقع له أوهام، وقد توبع عليه، ومن فوقه من رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2258 in Urdu
زيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي