صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1027. فصل في صلاة الضحى - ذكر إثبات أعظم الغنيمة لمعقب صلاة الغداة بركعتي الضحى
صلاة الضحی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ صبح کی نماز کے بعد چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرنے والے کے لیے عظیم غنیمت کا اثبات
حدیث نمبر: 2535
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا بَعْثَ قَوْمٍ أَسْرَعَ كَرَّةً، وَلا أَعْظَمَ غَنِيمَةً، مِنْ هَذَا الْبَعْثِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَسْرَعَ كَرَّةً وَأَعْظَمَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ؟ رَجُلٌ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ تَحَمَّلَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ، ثُمَّ عَقَّبَ بِصَلاةِ الضُّحَى، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّةَ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی انہیں بہت سا مال غنیمت ملا اور وہ لوگ جلدی بھی واپس آ گئے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے کبھی بھی کوئی ایسی مہم نہیں دیکھی جو اتنی جلدی واپس آ گئی ہو، جسے اتنا زیادہ مال غنیمت ملا ہو جتنا اس مہم کو ملا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اس مہم سے زیادہ تیزی سے واپس آنے اور زیادہ مال غنیمت حاصل کرنے کے بارے میں بتاؤں؟ ایک شخص اپنے گھر میں اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد جائے وہاں صبح کی نماز ادا کرے پھر اس کے بعد (وہ وہیں بیٹھا رہے اور پھر) چاشت کی نماز ادا کرے تو وہ شخص جلدی بھی واپس آ جاتا ہے اور اسے زیادہ مال غنیمت بھی حاصل ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2535]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2526»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2531)، «التعليق الرغيب» (1/ 235).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده محتمل للتحسين، حميد بن صخر ذكره المؤلف في " الثقات "6/ 188 - 189، فقال: حميد بن زياد أبو صخر الخراط من أهل المدينة مولى بني هاشم، يروي عن نافع ومحمد بن كعب، روى عنه حيوة بن شريح، وهو الذي يروي عنه حاتم بن إسماعيل، ويقول: حميد بن صخر، وإنما هو حميد بن زياد أبو صخر، لا حميد بن صخر، وهو مختلف فيه وقال ابن عدي: هو عندي صالح الحديث، وإنما أنكرعليه هذان الحديثان " المؤمن مؤالف " و " في القدرية "، وسائر حديثه أرجو أن يكون مستقيماً، روى له الجماعة غير البخاري، فإنه روى له في" الأدب المفرد " حديثين.
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي