صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1154. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 2664
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلْيُلْقِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً، وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلاتِهِ، وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ يَتَوَهَّمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الأَخْبَارِ، وَلا تَفَقَّهَ مِنْ صَحِيحِ الآثَارِ، أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ التَّحَرِّيَ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ، فَلا يَدْرِي مَا صَلَّى، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَتَحَرَّى الصَّوَابَ، وَلْيَبْنِ عَلَى الأَغْلَبِ عِنْدَهُ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ عَلَى خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالْبِنَاءُ عَلَى الْيَقِينِ: هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلاثِ، أَوِ الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَبْنِيَ عَلَى الْيَقِينِ وَهُوَ الأَقَلُّ، وَلْيُتِمَّ صَلاتَهُ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ عَلَى خَبَرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سُنَّتَانِ غَيْرُ مُتَضَادَّتَيْنِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنا قائم کرے، اگر اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہو، تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس کی نماز مکمل ہوئی، تو یہ رکعت نفل ہو جائے گی اور دو سجدے بھی نفل ہو جائیں گے اور اگر اس کی نماز نامکمل تھی، تو وہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور یہ دو سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور مستند روایات کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ نماز کے بارے میں تحری کرنا اور یقین پر بنا قائم کرنا ایک ہی چیز ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تحری یہ ہے کہ آدمی کو اپنی نماز میں شک لاحق ہو جائے تو یہ پتا نہ چلے کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے، جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، تو یہ بات لازم ہو گی کہ وہ درست صورت کے بارے میں تحری کرے جو اس کے نزدیک غالب گمان ہو۔ اس پر بنا قائم کر لے اور سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے۔ اور یقین پر بنا قائم کرنے کی صورت یہ ہے کہ آدمی کو دو یا تین رکعات، یا تین یا چار رکعات کے بارے میں شک ہوتا ہے۔ تو جب اس طرح کی صورت حال ہو گی تو وہ یقین پر بنا قائم کرے اور وہ سب سے کم مقدار ہے، پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا، جیسا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، یہ دونوں طریقے سنت ہیں اور ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، 2665، 2666، 2667، 2669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241» «رقم طبعة با وزير 2654»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (939).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2664 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري