صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1156. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فليقل كذبت أراد به في نفسه لا بلسانه
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "وہ کہے کہ میں نے جھوٹ بولا" سے مراد دل میں کہنا ہے، نہ کہ زبان سے
حدیث نمبر: 2666
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ فِي نَفْسِهِ: كَذَبْتَ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا بِأُذُنِهِ، أَوْ يَجِدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آئے اور یہ کہے، تم بے وضو ہو گئے ہو، تو اسے اپنے ذہن میں یہ کہنا چاہئے، تم جھوٹ کہہ رہے ہو جب تک آدمی اپنے کان کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سنتا یا اپنی ناک کے ذریعے اس کی بو کو محسوس نہیں کرتا (اس وقت تک اسے دوبارہ وضو نہیں کرنا چاہیئے) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2656»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير عياض بن هلال وهو مجهول
الرواة الحديث:
عياض بن أبي زهير الأنصاري ← أبو سعيد الخدري