🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1164. باب سجود السهو - ذكر خبر ثالث قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر عمران بن حصين وخبر معاوية بن حديج اللذين ذكرناهما قبل
سجدہ سهو کرنے کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ عمران بن حصین اور معاویہ بن حدیج کی خبروں سے متعارض ہے جو ہم نے پہلے بیان کیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2675
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ، وَأَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، وَقَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ إِمَّا قَصِيرُ الْيَدَيْنِ، وَإِمَّا طَوِيلُهُمَا، يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ وَلَمْ أَنَسَ"، فَقَالَ: بَلْ نَسِيتَ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، قَالَ: وَنُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ:" ثُمَّ سَلَّمَ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَخْبَارُ الثَّلاثَةُ قَدْ تُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ: هُوَ الَّذِي أَعْلَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَفِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ الْخِرْبَاقَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَفِي خَبَرِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الأَحَادِيثِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ، وَذَلِكَ أَنَّ خَبَرَ ذِي الْيَدَيْنِ: سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَخَبَرَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَخَبَرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الْمَغْرِبِ، فَدَلَّ مِمَّا وَصَفْنَا عَلَى أَنَّهَا ثَلاثَةُ أَحْوَالٍ مُتَبَايِنَةٍ فِي ثَلاثِ صَلَوَاتٍ لا فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی نمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، میرا خیال ہے وہ ظہر کی نماز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دو رکعات پڑھائیں (اور پھر سلام پھیر دیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں قبلہ کی سمت رکھی ہوئی لکڑی کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے، ان دونوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد) سے باہر چلے گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے لیکن انہوں نے رعب کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش نہیں کی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حاضرین میں سے ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ شاید چھوٹے تھے یا شاید لمبے تھے، انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔ انہوں نے عرض کی: شاید آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عام سجدوں کی مانند یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند تھا یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ تینوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی تھی، جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی۔ جبکہ سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تھا۔ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں تیسری رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا، جبکہ سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ تو جو چیز ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ یہ تین مختلف مواقع پر تین مختلف نمازوں کے واقعات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی نماز کے بارے میں یہ تینوں روایات مذکور ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2665»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (923): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← أيوب السختياني
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 2675 in Urdu