صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1184. باب المسافر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن خبر أبي الزبير الذي ذكرناه تفرد به حماد بن سلمة
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ ابو الزبیر کی خبر کو صرف حماد بن سلمہ نے روایت کیا
حدیث نمبر: 2696
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرَ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا الأَسَدِيَّ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاثًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ سورة الزخرف آية 13،" اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ"، فَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ، وَزَادَ فِيهِنَّ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" .
علی اسدی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ تعلیم دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوتے تو آپ تین مرتبہ تکبیر کہتے اور پھر یہ پڑھتے تھے۔ ”پاک ہے وہ ذات جس نے (اس سواری کو) ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے ق ابومیں لانے والے نہیں تھے۔“ اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے لیے اس سفر کو آسان کر دے ہمارے لیے اس کی مسافت کو سمیٹ دے۔ اے اللہ! سفر میں، تو ہی ساتھی ہے اور گھر والوں کا تو ہی نگران ہے اے اللہ! میں سفر کی مشقت (سفر کے دوران یا واپسی پر) کسی ناپسندیدہ منظر کو دیکھنے اور واپسی پر اپنے اہل خانہ، مال یا اولاد کے بارے میں کسی برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے تھے، تو یہی کلمات پڑھتے تھے اور ان میں یہ الفاظ زائد پڑھتے تھے۔ (ہم) رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2685»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2340).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
علي بن عبد الله الأزدي ← عبد الله بن عمر العدوي