صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1188. باب المسافر - ذكر الشيء الذي إذا قال المسافر في منزله أمن الضرر في كل شيء حتى يرتحل منه
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر مسافر اپنے ٹھکانے پر یہ کہے تو ہر چیز میں نقصان سے محفوظ رہتا ہے یہاں تک کہ وہ وہاں سے کوچ کرے
حدیث نمبر: 2700
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَاهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلا فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، فَإِنَّهُ لا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ وَالِدُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ مِصْرِيٌّ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات پڑھ لے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ہے“، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) تو جب تک وہ شخص وہاں سے روانہ نہیں ہو جاتا، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یعقوب بن عبداللہ نامی راوی بکیر بن عبداللہ بن اشج کے بھائی ہیں، اور حارث نامی راوی حارث بن یعقوب بن عبداللہ بن اشج ہے، حارث بن یعقوب نامی راوی عمرو بن حارث مصری کا باپ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2700]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2708، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2566، 2567، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2700، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10318، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3437، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3547، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10431، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27764» «رقم طبعة با وزير 2689»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2700 in Urdu
سعد بن أبي وقاص الزهري ← خولة بنت حكيم السلمية