صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1204. باب المسافر - ذكر الأمر بإرضاء المرء أهله عند قدومه من سفره
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنے سفر سے واپسی پر اپنے اہل کو خوش کرے
حدیث نمبر: 2717
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ:" تَزَوَّجْتَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟" قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ؟" قُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتُمَشِّطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْكَيْسُ أَرَادَ بِهِ الْجِمَاعَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک ہونے کے لیے روانہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟“ میں نے عرض کی: بلکہ ثیبہ (یعنی بیوہ یا طلاق یافتہ کے ساتھ کی ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش طبعی کرتے یا وہ تمہارے ساتھ خوش طبعی کرتی؟“ میں نے عرض کی: میری بہنیں ہیں، میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کروں جو ان کی دیکھ بھال کرے، ان کی کنگھی کرے اور ان کا خیال رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب تم واپس جا رہے ہو، تو جب تم گھر واپس جاؤ تو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «الْكَيْس» (سمجھداری کا مظاہرہ کرنے) سے مراد صحبت کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2717]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 443، 1801، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 715، وابن الجارود فى "المنتقى"، 642، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2496، 2713، 2714، 2715، 2717، 4182، 4911، 6517، 6518، 6519، 7138، 7140، 7141، 7143، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2048، 2776، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1100، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10479، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14348» «رقم طبعة با وزير 2706»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1787): ق - وله تتمة يأتي بها (6484 و 3099). تنبيه!! رقم (6484) = (6518) من «طبعة المؤسسة». رقم (3099) = (3109) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث ليس موجود برقم (3099) وإنما موجود برقم (7099) الموافق لـ (7143) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2717 in Urdu
وهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري