صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1337. باب صلاة الكسوف - ذكر ما يجب على المرء أن يتبرك برؤية كسوف الشمس والقمر فيحدث لله توبة أو يقدم لنفسه طاعة
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ سورج یا چاند گرہن دیکھ کر برکت حاصل کرے، یعنی اللہ کے لیے توبہ کرے یا اپنے لیے کوئی اطاعت پیش کرے
حدیث نمبر: 2854
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا نَرَى الآيَاتِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَاتٍ، وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَبَرُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، لَيْسَ بِصَحِيحٍ لأَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ طَاوُسٍ هَذَا الْخَبَرَ، وَكَذَلِكَ خَبَرُ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ هَذَا النَّحْوَ، لأَنَا لا نَحْتَجَّ بِحَنَشٍ وَأَمْثَالِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَكَذَلِكَ أَغْضَيْنَا عَنْ إِمْلائِهِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں (ظاہر ہونے والی) نشانیوں کو برکت کا نشان سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں خوف دلانے والی چیز سمجھتے ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حبیب بن ابوثابت نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز میں آٹھ رکوع کیے تھے اور چار سجدے کیے تھے۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ حبیب نے طاؤس کے حوالے سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول یہ روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف اس طرح ادا کی تھی وہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ ہم حنش اور اس جیسے راویوں کی احادیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کی املا کروائی ہوئی روایت سے بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2854]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3579، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2854، 6493، 6540، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 77، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 80، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3633، والدارمي فى (مسنده) برقم: 29، 30، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3839» «رقم طبعة با وزير 2843»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3579).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2854 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود