صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1336. باب صلاة الكسوف - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس أن صلاة الكسوف لا يجهر فيها بالقراءة
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ صلاة الكسوف میں قرأت بلند آواز سے نہیں کی جاتی
حدیث نمبر: 2853
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ طَوِيلا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ" . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتَ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا جو سورہ بقرہ کی تلاوت جتنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کوئی چیز پکڑنے کے لیے (آگے ہوئے تھے)، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مجھے جنت دکھائی گئی، تو میں نے اس میں سے انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے رہتے، اور میں نے جہنم کو دیکھا، میں نے آج جیسا (ہیبت ناک) منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے دیکھا اس میں اکثریت خواتین کی تھی“، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی وجہ کفر ہے“، عرض کی گئی: کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ایک زمانے تک اچھائی کرتے رہو پھر اسے تمہاری طرف سے کوئی ناگوار صورت حال دیکھنی پڑے تو وہ یہی کہے گی: اللہ کی قسم! میں نے کبھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2853]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 29، 431، 748، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 907، وابن الجارود فى "المنتقى"، 274، 275، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1377، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2832، 2853، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1189، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1569، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6392، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2755» «رقم طبعة با وزير 2842»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (2821). تنبيه!! رقم (2821) = (2832) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2853 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي