صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
56. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر رجاء نوال الجنان لمن قدم ابنا واحدا محتسبا فيه
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص ایک بیٹے کو صبر کے ساتھ پیش کرے، اس کے لیے جنت کی امید ہے
حدیث نمبر: 2947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ بُنَيٍّ لَهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِيهِ: " أَمَا يَسُرُّكَ أَلا تَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ؟" .
معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پا کر اس کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگوں نے بتایا: اس (بچے) کا انتقال ہو چکا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم جنت کے جس بھی دروازے پر آؤ گے، تو اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2936»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 92).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
معاوية بن قرة المزني ← قرة بن إياس المزني