صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
57. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر بناء الله جل وعلا بيت الحمد في الجنة لمن استرجع وحمد الله عند فقد ولده
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس کے لیے جنت میں بیت الحمد بناتا ہے جو اپنے بیٹے کے کھو جانے پر استرجاع کرے اور اللہ کی حمد کرے
حدیث نمبر: 2948
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، قَالَ: دَفَنْتُ ابْنِي وَمَعِي أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلانِيُّ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ الْخُرُوجَ أَخَذَ بِيَدِي فَأَخْرَجَنِي، وَقَالَ: أَلا أُبَشِّرُكَ؟ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ قَالَ اللَّهُ لِلْمَلائِكَةِ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالُوا: اسْتَرْجَعَ وَحَمِدَكَ، قَالَ: أَبَنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلانِيُّ هَذَا اسْمُهُ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ مِنْ سَادَاتِ أَهْلِ الشَّامِ، رَوَى عَنْهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَهْلُ بَلَدِهِ، وَأَبُو سِنَانٍ هَذَا هُوَ الشَّيْبَانِيُّ قَدِمَ الْبَصْرَةَ، فَكَتَبَ عَنْهُ الْبَصْرِيُّونَ، اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَأَبُو سِنَانٍ الْكُوفِيُّ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ.
ابوسنان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے بیٹے کو دفن کیا میرے ساتھ ابوطلحہ خولانی قبر کے کنارے پر موجود تھے جب میں قبر سے باہر آنے لگا، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور بولے: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ ”جب کسی مومن بندے کے بیٹے کا انتقال ہو جائے، تواللہ تعالیٰ فرشتوں سے یہ فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی جان قبض کر لی ہے فرشتے عرض کرتے ہیں جی ہاں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تم نے اس کے دل کے پھل (یعنی جگر کے ٹکڑے) کو قبضے میں لے لیا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: جی ہاںاللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے پھر اس بندے نے کیا کہا: فرشتے کہتے ہیں: اس نے انا لله وانا اليه راجعون پڑھا اور تیری حمد بیان کی، تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم اس شخص کے لیے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام ”بیت الحمد“ رکھو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوطلحہ خوانی نامی راوی کا نام نعیم بن زیاد ہے اور یہ اہل شام کے سرداروں میں سے ہیں۔ ان سے معاویہ بن صالح اور ان کے شہر کے دیگر افراد نے روایات نقل کی ہیں۔ ابوسنان نامی راوی شیبانی ہیں۔ یہ بصرہ تشریف لائے تھے۔ اہل بصرہ نے ان کے حوالے سے احادیث نوٹ کی تھیں۔ ان کا نام سعید بن سنان ہے جبکہ ابوسنان کوفی نامی راوی کا نام ضرار بن مرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2937»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - «التعليق الرغيب» (3/ 93)، «الصحيحة» (1408).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
الضحاك بن عبد الرحمن الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري