صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
116. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر الإخبار عن وصف ما يبشر به المؤمن والكافر عند حلول المنية بهما
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ موت کے وقت مؤمن اور کافر کو کیا بشارت دی جاتی ہے
حدیث نمبر: 3010
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ؟ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ:" لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہےاللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہےاللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں ہے بلکہ جب مومن کواللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی رضا مندی اور جنت کے حوالے سے خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اوراللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کواللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے، تو وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اوراللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2999»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
سعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق