صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر تخوف المصطفى صلى الله عليه وسلم على أمته زينة الدنيا وزهرتها
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر دنیا کی زینت اور اس کی چمک دمک سے خوف تھا
حدیث نمبر: 3225
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ أَخُوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زِينَةِ الدُّنِيَا وَزَهْرَتِهَا"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يُكَلِّمُكَ؟ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، وَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" وَرَأَيْنَا أَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ حَبَطًا، أَلَمْ تَرَ إِلَى آكِلَةِ الْخَضِرِ، أَكَلَتْ حَتَّى امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ رَتَعَتْ، وَإِنَّ الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ إِنْ وَصَلَ الرَّحِمَ، وَأَنْفَقَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهُ، كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہاللہ تعالیٰ دنیا کی زیب و زینت، آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا ایک صاحب نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے اس شخص سے کہا: گیا: کیا وجہ ہے کہ تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ساتھ بات نہیں کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسینے کو پونچھا اور دریافت کیا: سوال کرنے والا کون شخص ہے، جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بھلائی برائی کو نہیں لے کر آئے گی، لیکن بہار میں جو چیز اُگتی ہے وہ کسی کو مار دیتی ہے اور کسی کو موٹا تازہ کر دیتی ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں سبزہ کھانے والا جانور کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں لید کرتا ہے پیشاب کرتا ہے پھر چلتا ہے، بے شک مال میٹھا اور سرسبز ہے اور مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، اگر مسلمان صلہ رحمی سے کام لے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور جو شخص ناحق طور پر اسے حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس شخص کے خلاف گواہ ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3225]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3215»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (1465)، م (3/ 101 - 102).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري