صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر تخوف المصطفى صلى الله عليه وسلم على أمته زينة الدنيا وزهرتها
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر دنیا کی زینت اور اس کی چمک دمک سے خوف تھا
حدیث نمبر: 3226
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" لا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنِيَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ قُلْتَ"؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِخَيْرٍ، وَلَكِنْ هُوَ أَنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلْتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ، وَبَالَتْ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ، فَأَكَلَتْ، فَمَنْ أَخَذَ مَالا بِحَقِّهِ يُبَارَكُ لَهُ، وَمَنْ أَخَذَ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش و زیبائش تمہارے سامنے ظاہر کر دے گا۔“ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا کہا ہے؟“ اس شخص نے عرض کی: میں نے یہ گزارش کی ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بھلائی صرف بھلائی ہی لاتی ہے۔ لیکن اس کی مثال اسی طرح ہے، جس طرح بہار کا موسم (زیادہ کھانے والے جانور) کو مار دیتا ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا معاملہ مختلف ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے، وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، تو وہاں وہ لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر چرتا ہے اور واپس آتا ہے، تو جو شخص مال کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے، تو اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص مال کو ناحق طور پر حاصل کرتا ہے، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 921، 1465، 2842، 6427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1052، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3225، 3226، 3227، 4513، 5174، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3995، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11192» «رقم طبعة با وزير 3216»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3226 in Urdu
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري