صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
32. باب ما جاء في الحرص وما يتعلق به - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك التنافس على طلب رزقه
حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے رزق کی طلب میں مقابلہ بازی ترک کرے
حدیث نمبر: 3242
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَلامِ بْنِ شُرَحْبِيلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبَّةَ ، وَسَوَاءً، ابْنِي خَالِدٍ، يَقُولانِ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعْمَلُ عَمَلا يَبْنِي بِنَاءً، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانَا، فَقَالَ: " لا تَنَافَسَا فِي الرِّزْقِ مَا هُزَّتْ رُءُوسُكُمَا، فَإِنَّ الإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ وَهُوَ أَحْمَرُ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ، ثُمَّ يُعْطِيهِ اللَّهُ وَيَرْزُقُهُ" .
حبہ بن خالد اور سواء بن خالد بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کوئی تعمیر کر رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوایا اور فرمایا: تم رزق کی طرف اس طرح سے مائل نہ ہو جانا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے سر گھوم جائیں (یا جب تک تمہارا سر گھومتا ہے یعنی جب تک تم زندہ ہو تم مکمل طور پر رزق کی طرف ہی متوجہ نہ رہنا)، کیونکہ جب انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے، تو وہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے اس کے اوپر کھال بھی نہیں ہوتی پھر بھیاللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے اور اسے رزق دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3242]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3231»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (4798).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
سلام بن شرحبيل الكوفي ← حبة بن خالد العامري