صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
33. باب ما جاء في الحرص وما يتعلق به - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد للخبر الذي تقدم ذكرنا له
حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3243
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلا فِي هَذَا التُّرَابِ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ: لا يُؤْجَرُ إِذَا أَنْفَقَ فِي التُّرَابِ فَضْلا عَمَّا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنَ الْبِنَاءِ.
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آدمی جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اسے اس کا اجر ملے گا ماسوائے اس کے جو اس مٹی میں ہو (یعنی جو تعمیرات وغیرہ کی جائے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب کوئی شخص مٹی میں وہ چیز خرچ کرے جو اس کی بنیادی ضروریات سے اضافی ہو تو اس پر اسے اجر نہیں دیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3243]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3232»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2831).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
قيس بن أبي حازم البجلي ← خباب بن الأرت التميمي