صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
63. باب فرض الزكاة - ذكر الإباحة للإمام ضمانه عن بعض رعيته صدقة ماله
زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ امام اپنی بعض رعایا کی طرف سے ان کے مال کی زکوٰۃ کی ضمانت لے
حدیث نمبر: 3273
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الُوَلِيدِ، وَالْعَبَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا أَنْ كَانَ فَقِيرًا، فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ، فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، لَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ، فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا"، ثُمَّ قَالَ:" أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنُوُ الرَّجُلِ أَوْ صِنُوُ أَبِيهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، يُرِيدُ: إِنَّكُمْ تَظْلِمُونَهُ أَنَّهُ حَبَسَ مَالَهُ مِنَ الأَدْرَاعِ وَالأَعْتَادِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ لَهُ مَالٌ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، وَقَوْلُهُ فِي شَأْنِ الْعَبَّاسِ:" هُوَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا" يُرِيدُ أَنَّ صَدَقَتَهُ عَلَيَّ أَنِّي ضَامِنٌ عَنْهُ، وَمِثْلُهَا مَعَهَا مِنْ صَدَقَةٍ ثَانِيَةٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَقَدْ رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الْخَبَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَالَ فِي شَأْنِ الْعَبَّاسِ:" فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا"، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ: فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ، لأَنَّ الْعَرَبَ فِي لُغَتِهَا تَقُولُ:" عَلَيْهِ" بِمَعْنَى لَهُ، قَالَ اللَّهُ: أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ سورة الرعد آية 25 يُرِيدُ: عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ، وَالْعَبَّاسُ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَخَذُ الصَّدَقَةِ مِنْ وَجْهَيْنِ، أَحَدُهُمَا: أَنَّهُ كَانَ غَنِيًّا لا يَحِلُّ لَهُ أَخَذُ الصَّدَقَةِ الْفَرِيضَةِ، وَالأُخْرَى: أَنَّهُ كَانَ مِنْ صِبَيَةِ بَنِي هَاشِمٍ، فَكَيْفَ يَتْرُكُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَتَهُ عَلَيْهِ، وَهُوَ لا يَحِلُّ لَهُ أَخَذُهَا، وَيَمْنَعُهَا مِنْ أَهْلِهَا مِنَ الْفُقَرَاءِ؟ وَقَدْ رَوَى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ هَذَا الْخَبَرَ، وَقَالَ فِي شَأْنِ الْعَبَّاسِ:" فَهِيَ لَهُ وَمِثْلُهَا مَعَهَا" يُرِيدُ: فَهِيَ لَهُ عَلَيَّ، كَمَا قَالَ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ فِي خَبَرِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن جمیل کو صرف اس بات کا غصہ ہے کہ وہ غریب تھا اوراللہ تعالیٰ نے اسے خوش حال کر دیا ہے جہاں تک کہ خالد کا تعلق ہے تو تم نے خالد کے ساتھ زیادتی کی ہے اس نے، تو پہلے ہی اپنی زرہیں اور ساز و سامان اللہ کی راہ میں مخصوص کر لیا ہے اور جہاں تک عباس کا تعلق ہے تو وہ اللہ کے رسول کے چچا ہیں، تو ان کی زکوۃ کی ادائیگی اور اس کی مانند مزید ادائیگی میرے ذمے ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا آدمی کی جگہ ہوتا ہے (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) آدمی کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان جہاں تک خالد کا تعلق ہے، تو تم لوگوں نے خالد کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے اپنی زرہیں اور ساز و سامان کو اللہ کی راہ میں مخصوص کر دیا ہے۔ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: تم لوگ اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو کیونکہ اس نے اپنے مال میں سے زرہیں اور دیگر ساز و سامان کو روک رکھا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی مال باقی نہیں رہا جس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ اس کی مثل کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: ان کے زکوۃ کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور میں ان کی طرف سے ضامن ہوں اور اس کے ہمراہ اس کی مانند صدقے کا بھی ضامن ہوں جو اگلے سال ان پر لازم ہو گا۔ شعیب بن ابوحمزہ نے یہ روایت ابوزناد کے حوالے سے نقل کی ہے انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ یہ چیز ان پر لازم ہے اور اس کے ہمراہ اس کی مانند لازم ہے تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ چیز ان کے لیے صدقہ ہے کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں یہ کہتے ہیں اس پر لازم ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کو ملے گی۔ جیسا کہاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ”یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہے۔“ اس سے مراد یہ ہے: ان لوگوں پر لعنت ہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے لیے زکوة لینا جائز نہیں تھا۔ اس کی دو وجہ ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے: وہ خوشحال شخص تھے۔ ان کے لیے فرض زکوۃ کو لینا جائز نہیں تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے: ”سیدنا ہاشم کی اولاد میں سے ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زمے لازم زکوۃ کو ترک کر دیں جبکہ ان کے لیے زکوۃ کو لینا جائز نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان کے غریب افراد کو زکوۃ دینے سے منع کر دیں۔ جیسا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ابوزناد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے جس میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ ہیں۔ ”تو یہ ان کو ملے گی اور اس کی مانند اس کے ہمراہ انہیں ملے گی۔“ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: ان کی طرف سے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ جس طرح ورقاء بن عمر نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3262»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1435): م تمامه خ دون قوله «أما شعرت ... »، وقال: «فهي عليه صدقة، ومثلها معها»، وهو الأرجح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي