صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
66. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك الاتكال على القضاء النافذ دون إتيان المأمورات والانزجار عن المحظورات
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ نافذ شدہ تقدیر پر بھروسہ کرتے ہوئے اوامر پر عمل اور منہیات سے رکنے کو ترک نہ کرے۔
حدیث نمبر: 336
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ لأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، أَمْ لأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ؟ قَالَ:" لأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم کسی ایسے معاملے کے حوالے سے عمل کرتے ہیں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے یا کسی ایسے معاملے کے حوالے سے کرتے ہیں جو نئے سرے سے رونما ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسی صورت ہے، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: پھر عمل کیوں کیا جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا مخصوص عمل آسان کر دیا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 337»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - عن جابر: أن سراقة قال ... انظر الذي بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري